اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم جعفری نے کل اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ایاد امین مدنی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ داعش کی کوئي ریڈ لائن نہیں ہے یہ دہشتگرد گروہ تمام ممالک سے مسلح افراد اپنے ساتھ ملا رہا ہے اور عراقی عوام ساری دنیا کی نمائندگي کرتے ہوئے اس دہشتگرد گروہ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ بغداد کا دورہ کرنے والے ایاد مدنی نے بھی ہر طرح کے انتہا پسندانہ سوچ کا مقابلہ کۓ جانے پر تاکید کی ۔ دہشتگرد گروہ داعش موجودہ دور میں تمام حکومتوں اور ملتوں کے لۓ وبال جان بنا ہوا ہے۔ داعش کو بعض یورپی اور عرب ممالک نے مالی اور اسلحہ جاتی امداد کے ساتھ پروان چڑھایا ہے اور اس کی تقویت کی ہے۔ یہ دہشتگرد گروہ اپنے مظالم ڈھانے کے سلسلے میں کسی حد کا قائل نہیں ہے۔ اور اب ایسے سرکش گھوڑے میں تبدیل ہوچکا ہے جسے قابو کرنا بہت مشکل ہوچکا ہے۔ فرانس میں جو حال ہی دہشتگردانہ واقعہ ہوا جس کے نتیجے میں اس ملک کے متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوگۓ۔ یہ واقعہ حتی یورپی ممالک کے لۓ داعش کی جانب سے لاحق خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر یورپ اور دقیانوس عرب ممالک کی حمایت اور مدد نہ ہوتی تو داعش اپنے دہشتگردانہ اقدامات کا دائرہ اس حد نہیں پھیلا سکتا تھا۔دہشتگردگروہ داعش موجودہ صورتحال میں نہ صرف عراق اور شام بلکہ بلکہ مصر ، لیبیا اور تیونس سمیت شمالی افریقہ کے بہت سے ممالک میں سرگرم ہے۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ داعش اور القاعدہ جیسے دہشتگرد گروہوں سے وابستہ بہت سے گروہ انصار الشریعہ ، النصرہ ، بوکوحرام اور الشباب کے نام سے افریقہ کے تمام علاقوں ، ایشیاء حتی یورپ میں بھی سرگرم ہیں جو کہ عالمی سلامتی کے لۓ بجائے خود خطرے کی گھنٹی ہے۔جس کے بارے میں پہلے یہ تصور کیا جاتا تھاکہ یہ صرف عراق اور شام تک محدود ہے لیکن خطرے کی اس گھنٹی کی آواز بہت سے ممالک میں سنی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ امریکی صدر باراک اوباما نے سنہ دو ہزار چودہ کے آخری مہینوں میں اعتراف کیا کہ امریکہ نے داعش کے بارے میں غلطی کی ہے۔ اور اس غلطی کا نتیجہ ان کو بھگتنا ہوگا کہ جنھوں نے دہشتگرد گروہوں کو وجود میں لانے کے سلسلے میں بلاواسطہ یا بالواسطہ کردار ادا کیا ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب نے شام اور عراق میں دہشتگرد گروہوں کو مسلح کیا۔ لیکن اب سعودی عرب نے ان دہشتگرد گروہوں کے خوف عراق کے ساتھ اپنی سرحد پر دیوار تعمیر کر رہا ہے۔ حتی سعودی عرب نے گزشتہ برس دہشتگردی کے خلاف ایک کانفرنس بھی بلائي تھی۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب سنہ دو ہزار چودہ میں امریکہ کی قیادت میں داعش کے خلاف ایک عالمی اتحاد بھی تشکیل دیا گيا ہے۔ اگرچہ اس اتحاد کے حقیقی اہداف کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ دور میں حتی یورپ بھی داعش کی جانب سے خوف و ہراس کا شکار ہوچکا ہے۔
.......
/169